اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ دہشتگردی ایک خطرناک وبا ہے جو آج سرحد پار پھیل چکی ہے مگر اس لعنت کے خاتمے کے لئے مشترکہ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے بالخصوص بلا امتیاز کاروائی کرنے کی اشد ضرورت ہے.
دہشتگردوں کے خاتمے کے لئے ہم آہنگی اور بلاامتیاز کاروائی کی ضرورت ہے: ایڈمیرل شمخانی
يہ بات ايڈميرل 'علي شمخاني' نے جمعرات كے روز تہران كے دورے پر آئے ہوئے روسي صدر كے ايلچي برائے امور شام 'اليگزينڈر لاورنتيف' كے ساتھ ايك خصوصي ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر ايڈميرل شمخاني اور روسي صدر كے خصوصي ايلچي نے شام امن مذاكرات اور اس حوالے سے تہران اور ماسكو كے درميان باہمي تعاون پر تبادلہ خيال كيا.
فريقين نے شام كي تازہ ترين صورتحال بالخصوص دہشتگردي كے خلاف ايران،روس اور شام تعاون كے حوالے سے بات چيت كي.
ايڈميرل شمخاني نے شام پر امريكي ميزائل حملے كي شديد مذمت كرتے ہوئے اس بات پر زور ديا كہ شام ميں نام نہاد كيميائي ھتھياروں كے استعمال كا ڈراما رچايا گيا مگر اس الزام كي شفاف تحقيقات كے لئے بين الاقوامي فيكٹ فائنڈنگ كميٹي كي تشكيل ضروري ہے.
انہوں نے بتايا كہ امريكہ سميت بعض خطي ممالك شامي قوم كے خيرخواہ نہيں بلكہ وہ دہشتگرد گروہوں كي غيرموثر حيثيت اور ان كے خاتمے پر پريشان ہيں.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ شام امن عمل كو آگے بڑھانے كے مقصد سے دونوں ممالك كو تعميري تعاون كا سلسلہ جاري ركھنے كي ضرورت ہے.
ايڈميرل علي شمخاني نے مزيد بتايا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، شام كے بحران كو سياسي اور پُرامن طريقوں سے حل كرنے كے لئے اپنے تعميري كردار جاري ركھے گا اور ہم سمجھتے امريكي كي جانب سے بے بنياد الزامات كو بہانہ بنا كر شام پر حملہ كرنے كا مقصد موجودہ صورتحال كو مزيد پيچيدہ كرنا ہے.
انہوں نے بتايا امريكہ ايك بار پھر افغانستان اور عراق ميں اپني ناكام پاليسي كي راہ پر گامزن ہے مگر يقينا اس كو شام ميں يكطرفہ كاروائي اور غيرقانوني اقدامات سے كچھ
اس ملاقات كے دوران روسي صدر كے ايلچي نے شام امن عمل كے حوالے سے اسلامي جمہوريہ ايران كے تعميري كردار كو سراہتے ہوئے كہا كہ روس شامي مسئلے كو سياسي ذريعے سے حل كرنے كے لئے پرعزم ہے اور اس عمل كو سبوتاژ كرنے والے تمام دہشتگرد عناصر كے خلاف سخت ايكشن ليا جائے گا.
اليگزينڈر لاورنتيف نے اس بات پر زور ديا كہ ايران، روس اور شام كي جانب سے شام ميں دہشتگردوں بالخصوص داعش اور النصرہ فرنٹ جو امن عمل كو سبوتاژ كرنے كي سازش كريں گے، كے خلاف مشتركہ گراؤنڈ آپريشن كا سلسلہ جاري رہے كا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲